حوزہ نیوز ایجنسی | اطالوی یہودی اداکار، گلوکار، مصنف اور دانشور مونی اووادیا نے ایک ٹیلی ویژن کے تجزیاتی پروگرام «In Onda» میں مشرق وسطیٰ کے تنازع کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے صہیونیت اور تل ابیب حکومت کی پالیسیوں پر واضح اور جرات مندانہ تنقید کی۔
مونی اووادیا نے کہا: "نیتن یاہو اور صہیونیوں سے کسی بھی پست حرکت یا چیز کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ہم ایک مجرمانہ ذہنیت کا سامنا کر رہے ہیں"۔۔
پروگرام کے میزبان (لوکا تِلِزے) کی جانب سے کئے گئے سوال «کیا آپ ایک یہودی کی حیثیت سے لفظ "صہیونی" کو منفی صفت کے طور پر استعمال کرتے ہیں؟، مونی اووادیا نے کہا: "جی ہاں، اور میں اب کبھی بھی "یہودی ریاست" یا "اسرائیلی ریاست" کی اصطلاح نہیں سننا چاہتا۔ میری نظر میں یہ ایک صہیونی ریاست ہے جو ایک مجرمانہ، استعمار پسند، نسل پرستانہ، اپارتھائیڈ پر مبنی اور بالآخر نسل کش نظریے پر قائم ہے۔ میرے خیال میں آج اس ریاست کی قابل قبول تعریف یہی ہے۔ میں یہ بات ایک یہودی کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں"۔
میں ایک یہودی کی حیثیت سے صہیونیت کو یہودیت سے جوڑنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتا ہوں۔









آپ کا تبصرہ